نئی دہلی،6؍جنوری (ایس او نیوز؍یو این آئی) سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کے اہم‘سنٹرل وسٹا’پراجکٹ کو منگل کے روزہری جھنڈی دے دی۔جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے 2:1اکثریت کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پراجکٹ کو وزارت ماحولیات کی جانب سے دی گئی ہری جھنڈی میں کوئی بے ضابطگی نظر نہیں آتی۔
جسٹس کھانولکر اور جسٹس مہیشوری نے بھی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ زمین استعمال میں تبدیلی کے نوٹیفکیشن کودرست ٹھہرایاجبکہ جسٹس کھنہ نے اس پرعدم اتفاق ظاہر کیا۔ اس پراجکٹ کے خلاف پانچ عرضیاں دائر کی گئی تھیں، جن میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے زمین استعمال تبدیل کرنے کے نوٹیفکیشن اور ماحولیاتی خدشات کو نظرانداز کرنے وغیرہ معاملے شامل تھے۔عدالت نے طویل سماعت کے بعد گذشتہ سال 5 نومبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ 7 دسمبر کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کو منظوری دے دی تھی، لیکن موجودہ ڈھانچے میں کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑکو فیصلہ آنے تک روک دیا تھا۔
جسٹس کھانوِلکر نے معاملے کا حتمی نمٹارہ نہ ہونے کے باوجود تعمیراتی کام آگے بڑھانے کے تعلق سے گہری ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور سالسٹر جنرل توشار مہتا سے کہا تھا“ کوئی روک نہیں ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ہر چیز کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں ”بنچ کی ناراضگی کا سامنا کرتے ہوئے سالسٹر جنرل نے حکومت سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے ایک دن کا وقت مانگا تھا، لیکن عدالت نے اسی دن سرکار سے بات چیت کر کے واپس آنے کے لئے کہاتھا اور کچھ دیر کے لئے سماعت روک دی تھی۔ تھوڑی دیر بعد مسٹرمہتا واپس آ گئے تھے اور معافی مانگتے ہوئے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کوئی تعمیر، توڑ پھوڑ یا پیڑوں کی کٹائی نہیں ہوگی۔ سنگ بنیاد رکھا جائے گا، لیکن کوئی اور تبدیلی نہیں ہوگی۔ جسٹس کھانولکر نے مسٹر مہتا کا بیان ریکارڈ پر لیتے ہوئے حکم دیا کہ 10 دسمبر کو سنگ بنیاد رکھنے کا پروگرام جاری رہے گا، لیکن لیکن کوئی اور تعمیراتی کام نہیں ہوگا۔